تقویٰ کا لغت میں تو یہ معنی ہے : یعنی نفس کو ہر ایسی چیز سے محفوظ کرنا جسی سے ضرر کا اندیشہ ہو .عرف شرع میں تقویٰ کہتے ہیں ہر گناہ سے اپنے اپ کو بچانا .اس کے درجے مختلف ہیں .
ایک اور چیز غور طلب تھی مکّہ میں مسلمان کفار کے ظلم ستم سہتے اور چپ ہوجاتے .مدینہ میں جب سب اکٹھے ہوگئے تو کفار نے اپنی اجتمائی طاقت سے اسلام کو مٹانے کا عزم کرلیا . ادھر الله تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کو کفار سے ٹکر لینے کی اجازت دے دی .اور انہیں یہ بتایا کہ اپنی بےکسی اور بےکسی ، مخالفت کی قوت و سطوت سے مت گھبراؤ . فتح یاب تو وہی ہوتا ہے جس کے شامل حال میری تائید و نصرت ہوتی ہے . اور وہ تمہارے ساتھ ہے . یقینا تمھیں غالب و منصور ہو .
عملی اعتبار سے ان کی پستی کی یہ حالت تھی کہ وہ معمولی سے دنیاوی فائدے کے لیے تورات کی واضح آیتوں کا انکار بلکے ان میں تحریف کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے . تجارت کی منڈیوں پر ان کا قبضہ تھا .یثرب کی زرخیز زمینیں اور شاداب باغات ان کی ملکیت میں آ چکے تھے . علم و دانش میں انصار کو ان سے کوئی نسبت ہی نہ تھی .
Comments
Post a Comment