الله تعالیٰ کے نزدیک مسلمان وہی جو زبان کے اقرار کے ساتھ دل سے تصدیق بھی کرے .اور جو دل سے تصدیق نہ کرے وہ مومن نہیں .خواہ ایمان و اسلام میں وہ کتنا ہی چرب زبان کیوں نہ ہو .
منافق اس کو کہتے ہیں جو زبان سے اسلام کا اقرار کرے لیکن دل سے منکر ہو .اسلام کی روز افزوں ترقی دیکھ کر دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے کئی موقع شناس اپنے اپ کو مسلمان بتانے لگتے ہیں .نیز وہ بد باطن حاسد جو کھلے طور پر اسلام کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے وہ مسلمانوں میں شامل ہو کر سازشوں اور فتنہ انگیزوں کا جال بچھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے .
کفار کے کفر و انکار کی وجہ سے الله تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی .یعنی پہلے سے ان کے دل مہر شدہ نہ تھے .بلکے ان کے کفر و انکار اور اس پر شدید اصرار کی پاداش میں انہیں اس نعمت سے محروم کردیا گیا .ایک اور جگہ ارشاد ہے : یعنی جو کرتوت وہ کیا کرتے ہیں . ان کا میل ان کے دلوں پر جم گیا ہے .اور ان کے دلوں کا روشن آئینہ ان قدر مکدر ہوگیا ہے کہ آفتاب ہدایت کی روشن کرنیں ان میں چمک پیدا نہیں کر سکتیں .الله تعالیٰ ہمیں حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے . آمین
فلاح کسی ادھوری اور جزوی کامیابی کو نہیں کہتے بلکے فلاح اس مکمل کامیابی کو کہا جاتا ہے جس میں دنیا اور آخرت کی ساری سعادتیں اور برکتیں سمٹ آئ ہوں .ائمه لغت نے تصریح کی ہے کہ عربی زبان میں فلاح کے لفظ سے زیادہ کوئی جامع لفظ نہیں .جو دنیا اور آخرت دونوں کی خیرات و برکات پر دلالت کرتا ہو .
ایقان کہتے ہیں : یعنی علم کی وہ پختگی جس میں شک و شبہ کا گزر نہ ہو .اور جب کسی چیز یا حقیقیت کا علم اتنا پختہ ہوجاتا ہے . تو وہ عقل ، دل اور ارادہ کو مسخر کر دیتا ہے .انسان اس کے خلاف نہ سوچ سکتا ہے نہ کچھ کر سکتا ہے
لغت میں رزق کہتے ہیں : حصّہ اور بخشش کو خواہ حسی ہو یا معنوی .مال ، دولت ، علم و معرفت اسی لحاظ سے سب رزق ہیں .اور یہاں بھی رزق کا یہی معنی مراد ہے .جو بھی انہیں زیادہ مقدار میں خود کے پاس پائے وہ اسے دوسروں میں تقسیم کرے جن کے پاس یہ نہیں ہے .
متقین وہ لوگ ہیں جو قرآن کی ہدایت سے بہراور ہوتے ہیں . ان کی نشانی یہ کہ یہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں . اور دوسری علامت یہ ہے کہ وہ حضور صلی الله علیہہ وسلم کی بتائی ہوئی تمام چیزوں پر محکم یقین رکھتا ہو .
شریعت اسلامیہ کے وہ احکام جن کی حکمتوں کے سمجھنے سے انسانی عقل (ابتدا میں ) قاصر رہتی ہے یا وہ اشارات جو اس کے ذاتی مفاد یا اس کے گروہی اور محدود وطنی منافع کے خلاف ہوتے ہیں تو ایسے حکموں کو تسلیم کرنا بھی ایمان بالغیب میں داخل ہے .
ایمان بالغیب کو سمجھنے کا فقط ایک ذریعہ ہے اور وہ ہے نبی کی ذات ے گرامی . اس کی زبان حق ترجمان سے جو کچھ نکلے اس پر انسان محکم یقین رکھے . اس لیے ایمان بالغیب کو تقویٰ کی اولین شرط قرار دیا گیا ہے .
متقین کی علامت یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں . اور غیب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو جو ظاہری حواس کی رسائی سے بلند اور عقل کی سمجھ سے بالاتر ہو .جیسے کہ وحی ، فرشتے ، قیامت ، جنت ، دوزخ ، اور خود ذات ے الہی .یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو نہ آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہیں اور نہ عقل سے سمجھی جا سکتی ہیں .
تقویٰ کا لغت میں تو یہ معنی ہے : یعنی نفس کو ہر ایسی چیز سے محفوظ کرنا جسی سے ضرر کا اندیشہ ہو .عرف شرع میں تقویٰ کہتے ہیں ہر گناہ سے اپنے اپ کو بچانا .اس کے درجے مختلف ہیں .
الف ، لام ، میم ، مفسرین نے ان حروف کی تشریح کرتے ہوے متعدد اقوال تحریر فرمائے ہیں . میرے نزدیک احسن قول یہ ہے کہ الف اور لام اور دیگر حروف مقطعات . یہ وہ راز ہیں جو الله اور رسول کے درمیان ہیں . صاحب روح المعنی کی یہ عبارت ملاحظہ ہو . یعنی ان حروف کا مطلب نبی کریم جانتے ہیں (صل الله علیہ وسلم ) . اور اولیا کاملین .انکو یہ علم بارگاہ الہی سے عطا ہوتا ہے .بعض اوقات یہ حروف خود اپنے اسرار کو اولیا کرام سے بیان کر دیتے ہیں .