Posts

Showing posts from February, 2024

تسمیہ کا ترجمہ بیان کریں ؟

 شروع کرتا ہوں الله کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے .

تعوذ کا ترجمہ بیان کریں ؟

 میں پناہ مانگتا ہوں الله کی شیطان مردود  سے .

مکّہ کی نسبت مدینہ میں کیا چیز غور طلب تھی ؟

ایک اور چیز غور طلب تھی مکّہ میں مسلمان کفار کے ظلم ستم سہتے اور چپ ہوجاتے .مدینہ میں جب سب اکٹھے ہوگئے تو کفار نے اپنی اجتمائی طاقت سے اسلام کو مٹانے کا عزم کرلیا . ادھر الله تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کو کفار سے ٹکر لینے کی اجازت دے دی .اور انہیں یہ بتایا کہ اپنی بےکسی اور بےکسی ، مخالفت کی قوت و سطوت سے مت گھبراؤ . فتح یاب تو وہی ہوتا ہے جس کے شامل حال میری تائید و نصرت ہوتی ہے . اور وہ تمہارے ساتھ ہے . یقینا تمھیں غالب و منصور ہو . 

اسلام کو مدینہ میں پوری طرح سے غالب کرنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت تھی اور کیا اقدامات کیے گئے ؟

مدینہ میں اسلام کو غالب کرنے کے لیے کثرت کو وحدت میں کھونا پڑے گا . اور کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جس میں بد نظمی اپنے قدم جما سکے . اب ضرورت تھی ایسے قانون کی جو اس کے دیوانی اور فوجدار مقدمات کا فیصلہ کرے . ایسے اقتصادی نظام کی جو عدل و انصاف پر مبنی ہوتے ہوے معاشی خوشحالی کا ضامن ہو . سیرت و اخلاق کے ایسے قالب کی جس میں ملت کا ہر فرد اپنے کردار کو ڈھالے تا کہ اس کی خوبیاں اور نیکیاں اجتمائی رنگ اختیار کر لیں . 

دوسری کیا صورت حال تھی جس سے اسلام کو مدینہ میں واسطہ پڑا ؟

دوسری نئی صورت حال جس سے مدینہ میں اسلام کو واسطہ پڑا وہ یہ تھی کہ انصار کی اکثریت کے اسلام قبول کر لینے کے بعد اور مکّہ سے مسلمانوں کی ہجرت کے بعد اسلام متفرق اور منتشر افراد کا مزہب نہیں رہا تھا . بلکہ ایک جماعت اور قوم کا دین بن گیا تھا . اور قوم بھی ایسی جس میں ترقی اور برتری کی بے پناہ صلاحیتیں بیدار ہورہی تھی . اب ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسے مضبوط خطوط پر ان کی تنظیم کردی جائے . 

جب یہود نئے دین کے خلاف تھے تو قرآن کا کیا کام تھا ؟

اب قرآن کا کام یہ تھا کہ ان رکاوٹوں کو دور کرے . اور ان فلک بوس چوٹیوں کو پیوند خاک . اسی لیے مدینہ طیبہ میں جو پہلی سورت نازل ہوئی اس کے کئی رکوع یہود کی اصلاح کے لیے وقف ہیں . 

یہودیوں پر اسلام کا کیا اثر پڑا ؟

جب حضور صلی الله آلہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی  تو یہ تلملا اٹھے . انہیں اپنے عظمت و جلال کے محلات مسمار ہوتے دکھائی دینے لگے . کہاں ان کی خود بینی اور خود پرستی اور کہاں ایک نئے دین کے قبول اور ایک نئے رسول کی اطاعت کی دعوت . یہود کیسے اسے قبول کر لیتے . ان کے سامنے تو رکاوٹوں کے کئی پہاڑ تھے . ایک سے ایک بلند اور ایک سے ایک کٹھن . 

عملی لحاظ سے یہودیوں کی کیا حالت تھی ؟

عملی اعتبار سے ان کی پستی کی یہ حالت تھی کہ وہ معمولی سے دنیاوی فائدے کے لیے تورات کی واضح آیتوں کا انکار بلکے ان میں تحریف کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے . تجارت کی منڈیوں پر ان کا قبضہ تھا .یثرب کی زرخیز زمینیں اور شاداب باغات ان کی ملکیت میں آ چکے تھے . علم و دانش میں انصار کو ان سے کوئی نسبت ہی نہ تھی . 

یثرب کے اصلی باشندے کون تھے اور قوت اقتدار کس کے ہاتھ میں تھا ؟

 یثرب کے اصلی باشندے گو انصار تھے لیکن قوت اقتدار یہود کے ہاتھ میں تھا . اور انصار مذہبی اور ذہنی طور پر یہود سے بہت متاثر تھے . یہود کیونکے اہل کتاب تھے اس لیے وحی ، رسالت ، قیامت ، جنت ، دوزخ وغیرہ پر ان کا ایمان تھا . لیکن بد قسمتی سے وہ اپنی قومی برتری کے نشہ میں اس حد تک مست تھے کہ وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے علاوہ نبوت کسی اور کو بھی عطا کی جا سکتی ہے .

حضور صلی الله علہ وسلم کی پیدائش سے پہلے اہل مکہ کی کیا حالت تھی ؟

اپ کی پیدائش سے پہلے اہل مکہ مشرک و بت پرست تھے . وحی ، نبوت ، قیامت وغیرہ کا تصور بھی ان کے ذهن میں نہ تھا . قتل و غارت اور لوٹ مار میں وہ فخر اور لذت محسوس کرتے تھے . اس لیے مکّہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں اس میں انہیں عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ کی اصلاح پیش نظر تھی .

سوره البقرہ کتنے لفظوں پر مشتمل ہے ؟

 اس کے الفاظ چھے ہزار اکتیس اور حروف کی تعداد بیس ہزار ہے . 

سوره البقرہ میں کتنے رکوع اور کتنی آیات ہیں ؟

 اس سورت میں چالیس رکوع اور دو سو چھیاسی آیتیں ہیں . 

ایاک نعبد و ایاک نستعین کے معنی اور مفہوم بیان کریں ؟

 اس کے معنی ہیں کہ صرف ھم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کسی کی نہیں . یعنی جیسے ھم تیری ہی  عبادت کرتے ہیں اسی طرح مدد بھی صرف تجھی سے مانگتے ہیں تو ہی کارساز حقیقی ہے، تو ہی مالک حقیقی ہے . ہر کام میں ، ہر حاجت میں تیرے سامنے ہی دست سوال دراز کرتے ہیں . 

عبادت کیا ہے ؟

عبادت یعنی حد درجہ کی عاجزی اور انکساری . مفسرین اسکی مثال سجدے سے دیتے ہیں . حالانکہ صرف سجدہ ہی عبادت نہیں بلکے حالت نماز میں تمام حرکات و سکنات عبادت ہیں . ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا ، رکوع اور رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونا ، سجدہ اور اسکے بعد حالت التحیات میں دوزانو بیٹھنا ، اسلام کے لیے دائیں بائیں منہ پھیرنا . یہ سب عبادت ہیں . 

دین کے کیا معنی ہیں ؟

دین کا مطلب ہے حساب اور جزا . لبید کہتا ہے ثواب و عذاب کی تعبیر لفظ دین سے کی تا کہ پتا چلے کہ یہ ثواب و عذاب بلا وجہ نہیں بلکے ان کے اپنے اعمال کا تعبی ثمر ہے جس سے مفر نہیں . مقصد یہ کہ انسان گناہوں کی لذت میں کھو کر ان برے نتائج سے بے خبر نہیں ہوجائے جو رونما ہو کر رہیں گے . 

مالک کسے کہتے ہیں ؟

مالک کہتے ہیں وہ ہستی جو اپنی ملک میں جو چاہے کر سکے . اس لفظ سے ان عقائد باطلہ کی تردید ہوگئی جن میں ہندوستان کے مشرک اور دوسری کئی قومیں مبتلا تھیں . یعنی خدا  مجرم کو سزا دینے  مجبور ہے . اسے معاف کرنے کا ہرگز اختیار نہیں قرآن نے فرمایا وہ مالک و مختار ہے اور ہر چیز جن و انس سب اسکی ملکیت ہیں . 

لفظ رب کا کیا مطلب ہے ؟

رب مصدر ہے . اس کا معنی ہے تربیت . اور تربیت عربی میں کہتے ہیں . کسی چیز کو اس کی ازلی استعداد و فطری صلاحیت کے مطابق آہستہ آہستہ مرتبہ کمال تک پہنچانا . اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے منعم الیہ کے اعتبار سے اعلی ترین نعمت تربیت ہے . 

لفظ حمد نے کس حقیقیت کو بے نقاب کیا ہے ؟

اس لفظ حمد نے اس حقیقیت کو بے حجاب کردیا کہ الله تعالیٰ کا صفات کمال متصف ہونا اضطراری اور غیر اختیاری نہیں بلکے اسکی اپنی مرضی اور ارادہ کی جلوہ نمائی ہے .کمال کہیں بھی ہو جمال کسی روپ میں ہو اسی کی کرشمہ سازی ہے .

سالک جب راہ طلب میں قدم رکھے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟

سالک جب راہ طلب میں قدم رکھے تو پہلے اپنے رب کی حمد کرے جس نے اس راہ پر چلنے کی اسے توفیق دی ، جس نے منزل مقصود کی لگن اس میں پیدا کی کیونکے :  میری طلب بھی انھیں کے کرم کا صدقہ ہے                  قدم یہ اٹھتے نہیں اٹھائے جاتے ہیں .

حمد کیسے کہتے ہیں ؟

ہر خوبی و کمال جس کا ظہور اختیار اور ارادے سے ہو ، اس کی ستائش و ثنا کو حمد کہتے ہیں . 

قرآن خدا تعالیٰ کی کونسی صفت زیادہ بیان کرتا ہے ؟

  اپ نے غور فرمایا کہ قرآن الله تعالیٰ کی جس صفت کا زیادہ ذکر کرتا ہے وہ صرف قہارییت و جباریت نہیں بلکے صفت رحمانیت و رہمیت ہے . 

رحمت الہی سے کیا مراد ہے ؟

 رحمت الہی سے مراد اس کا وہ انعام و کرام ہے جس سے وہ اپنی مخلوق کو سر فراز کرتا ہے ، وجود ، زندگی ، علم ، حکمت ، قوت ، عزت اور عمل صالح کی توفیق ، سب اس کی رحمت کے مظاہر ہیں . یہ اس کی بے پہ پایاں رحمت ہی تو ہے جس نے کسی استحقاق کے بغیر انسان کی جسمانی اور روحانی بالیدگی کے سب سامان فراهم کردئیے . یہ اس کی بے حد و حساب رحمت ہی تو ہے جو ہماری لگاتار نہ شکریوں اور نہ فرمانیوں کے با وجود وہ اپنے لطف و کرم کا دروازہ بند نہیں کرتا

بسم الله کی برکت بیان کریں کوئی حدیث یا واقع ؟

امام قرطبی نے صحیح سند سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہا نے شکایات کی کہ : یا رسول الله جب سے مشرف با اسلام ہوا ہوں تب سے جسم میں درد نہیں جاتی تو رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : تین بار بسم الله پڑھو اور ساتھ ایک جملہ پڑھنے کا کہا اور فرمایا جہاں درد ہے وہاں ہاتھ رکھ کر پڑھو . 

بسم الله شریف کیوں ضروری ہے نیز اس سے خدا کی ناراضگی کا کیا تعلق ہے ؟

بسم الله شریف پڑھنا اس لیے ضروری ہے تا کہ بندے کا توکل پختہ ہوجاے ، نیز جب اسے ہر کام کرتے وقت بسم الله کی عادت پڑھ جائے گی تو وہ ہر وہ کام کرنے سے بچ جائے گا جس سے خدا کی ناراضگی وابستہ ہو . 

بسم الله کب کب پڑھنی چاہیے ؟

  اسلامی آداب معاشرت میں بسم الله کو اہم مقام حاصل ہے . ہمیں ہمارے ہادی مرشد نے یہ سبق پڑھایا کہ ہر کام بسم الله سے شروع کرو . بلکے یہاں تک فرمایا کہ :  دروازہ بند کرو تو بسم الله پڑھو ، دیا بجھاؤ تو الله کا نام لیا کرو ، اپنے برتن ڈھانپو تو الله کا نام لیا کرو ، اپنی مشک کا منہ باندھو تو الله کا نام لیا کرو .  مقصد یہ ہے کہ جب انسان ہر کام کرنے سے پہلے اپنے خالق کائنات کا نام لےگا تو اس کی رحمت سے مشکل آسان ہوجائے گی . 

سوال : اسلامک طریقے سے اپ کسی کی اصلاح کیسے کر سکتے ہیں ؟

  سوال :   اسلامک طریقے سے اپ کسی کی اصلاح کیسے کر سکتے ہیں . اگر آپکو کسی انسان کی اصلاح کا موقع ملے تو اپ کیسے شروعات کر سکتے ہیں ؟   جواب:   جواب یہ ہے کہ اپ اس سے سختی سے پیش نہیں آ سکتے ، تو آپکو کیا کرنا ہے اگر وہ غریب ہے تو اپ اسے پیسے دیں گے لیکن نہیں اس سے وہ اسلام کی طرف گامزن نہیں ہوگا تو جواب یہ ہے کہ اپ اس  کے سامنے ایک ایسی شخصیت رکھیں جو عین اسلام کے مطابق زندگی جی رہا ہے ، انسان کا یہ نیچر ہوتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کو کاپی کرتا ہے ، اس کی مثال اپ یوں لے لیجئے کہ جب چودہ سو سال پہلے لوگ گمراہی میں مبتلا تھے تو خدا تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے پیغمبر بیجھے تو عین اسلام کے مطابق زندگی جیتے ، جسے دیکھ کر لوگ بھی ان سے متاثر ہوتے تھے .  اب اس دور میں یہ ایسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ دوسرے کی اصلاح کے لیے اپ خود ویسے بن جائیں ، مطلب جب اپ خود نماز ، قرآن کا خیال رکھیں گے تو دوسرا آپسے متاثر ہوگا اور کہیں نہ کہیں اسے اپنی زندگی میں لگائے گا آپکو زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں بلکے اسے پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے . اسے یہ بتائے کہ یہ سب ...