ایک اور چیز غور طلب تھی مکّہ میں مسلمان کفار کے ظلم ستم سہتے اور چپ ہوجاتے .مدینہ میں جب سب اکٹھے ہوگئے تو کفار نے اپنی اجتمائی طاقت سے اسلام کو مٹانے کا عزم کرلیا . ادھر الله تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کو کفار سے ٹکر لینے کی اجازت دے دی .اور انہیں یہ بتایا کہ اپنی بےکسی اور بےکسی ، مخالفت کی قوت و سطوت سے مت گھبراؤ . فتح یاب تو وہی ہوتا ہے جس کے شامل حال میری تائید و نصرت ہوتی ہے . اور وہ تمہارے ساتھ ہے . یقینا تمھیں غالب و منصور ہو .