Posts

Showing posts from April, 2024

منافقوں کے کتنے گروہ تھے؟ اور دونوں کا رویہ کیسا تھا ؟

 منافقوں کے دو گروہ تھے : " ایک وہ جو دل سے کفر پر جمے تھے اور صرف زبان سے خود کو مسلمان کہتے . " " دوسرا وہ جو ایمان تو قبول کر لیتے لیکن مصائب اور مشکلات سے گھبرا کر پھر اسلام سے دست بردار ہوجاتے ". (ضیا القرآن (حضرت پیر محمد شاہ الا زہری رحمتہ الله علیہ ) صفحہ نمبر ٣٧)

اشترا کا کیا معنی ہے اور یہ قرآن میں کس لیے بیان کیا گیا ہے ؟

 اشترا کا معنی ہے خریدنا ، قیمت ادا کر کے کوئی چیز لینا . قرآن مجید میں سوره بقرہ آیت نمبر ١٥ میں اس کا ذکر ہے :  ترجمہ "یہ لوگ جنہوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے بدلے مگر نفع بخش نہ ہوئی ان کی تجارت اور وہ صحیح راہ نہ جانتے تھے . " یعنی اشترا کا معانی تب درست ہوسکتا ہے جب کہ منافقوں کے پاس دولت ایمان ہوتی اور اسے دے کر وہ  کفر خریدتے . وہاں تو پہلے بھی کفر ہی کفر تھا . (ضیا القرآن (حضرت پیر محمد کرم شاہ الا زہری رحمتہ الله علیہ ) سوره بقرہ آیت نمبر ١٥ صفحہ نمبر ٣٧.)

منافقین کا رویہ کیا تھا ؟ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو کیا کہتے ؟

 ترجمہ : اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے تو کہتے ہیں ھم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ھم تمہارے ساتھ ہیں ھم تو صرف ان کا مذاق اڑا رہے تھے . منافقین کا رویہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ملتے تو کہتے کہ ھم ایمان لے آئے ہیں . اور کفار کے سرغنوں کے پاس تنہائی میں جا کر انہیں یقین دلاتے کہ ھم اپنے مزہب پر قائم ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہماری بات چیت اور اٹھنا بیٹھنا اس وجہ سے ہرگز نہیں کہ ھم ان کا دین قبول کر چکے ہیں بلکے ھم تو اس طرح ان کو بیوقوف بناتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں .  ( ضیا القرآن ، حضرت پیر محمّد کرم شاہ الا زہری ،صفحہ نمبر ٣٦ ، آیت نمبر ١٤ ، جلد اول )

حضور (صلی الله علیہ وسلم ) کے خلاف منافقین کے دل میں عداوت کے کیا جذبات پروان چڑھ رہے تھے ؟

 سوره بقرہ آیت نمبر ٩ ، ١٠ میں ہے کہ : ترجمہ : " منافقین اسلام اور الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم ) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے . کیونکے یہ وہ نور ہے جس کو ہمیشہ تاباں پھر بڑھادی .الله نے ان کی بیماری اور ان کے لیے درد ناک عذاب  ہے  بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے ہیں " حضور (صلی الله علیہ وسلم ) کے خلاف منافقین کے دل میں جو جذبات پروان پا رہے تھے اور حسد اور غصے کی جو چنگاریاں چٹخ رہی تھیں .ان کو قران نے مرض سے تعبیر فرمایا ہے جب وہ حضور (صلی الله علیہ وسلم ) اور اسلام کی روز افزوں عزت اور ترقی دیکھتے تو حسد و عناد کے شعلے بھڑک اٹھتے . الله تعالیٰ انہیں تنبیہ فرماتا ہے کہ اگر انہوں نے یہ مرض یونہی بڑھنے دیا اور اسکا علاج نہ کیا تو جس طرح جسمانی بیماریاں جسمانی موت کی وجہ بنتی ہیں ویسے ہی ان کا یہ مرض ان کے قلب و روح کا گلہ گھونٹ کر رکھ دے گا 

کفار کو جب فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے تو وہ کیا کہتے ہیں ؟ نیز باقی فرقوں کا کیا انداز ہے ..

 سوره بقرہ کی آیت ١١ میں کہا گیا ہے کہ : اور جب کفار کو کہا جائے کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں کہ ھم ہی تو سنوارنے والے ہیں ..  اس آیت میں ان کے بیمار ہونے کی دلیل پیش کی گئی ہے . وہ دن رات فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہیں اور اگر ان کی فتنہ پردازیوں کی طرف توجہ دلا کر انہیں باز رہنے کو کہا جاتا ہے تو الٹا گھورتے ہیں اور کہتے ہیں اپ ہمیں فسادی کہ رہے ہیں . ھم ہی تو امن و اصلاح کے لیے ہر وقت کوشش کر رہے ہیں . اب اپ اپنے اردگرد نظر ڈالیے . جتنے نئے فرقے ، نئے مذھب جنم لے رہے ہیں ان کے بانی بھی دین کی اصلاح اور قوم کی فلاح کا دعویٰ کرتے ہیں .لیکن ان کی فتنہ پردازیاں آئے دن جو گل کھلا رہی ہیں ان کی وجہ سے تو قوم کا ذہنی اتحاد بھی پاش پاش ہورہا ہے . (سوره بقرہ آیت نمبر گیارہ ، ضیا القران ، حضرت پیر محمد کرم شاہ الزہری رحمتہ الله علیہہ )