کفار کو جب فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے تو وہ کیا کہتے ہیں ؟ نیز باقی فرقوں کا کیا انداز ہے ..
سوره بقرہ کی آیت ١١ میں کہا گیا ہے کہ : اور جب کفار کو کہا جائے کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں کہ ھم ہی تو سنوارنے والے ہیں ..
اس آیت میں ان کے بیمار ہونے کی دلیل پیش کی گئی ہے . وہ دن رات فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہیں اور اگر ان کی فتنہ پردازیوں کی طرف توجہ دلا کر انہیں باز رہنے کو کہا جاتا ہے تو الٹا گھورتے ہیں اور کہتے ہیں اپ ہمیں فسادی کہ رہے ہیں . ھم ہی تو امن و اصلاح کے لیے ہر وقت کوشش کر رہے ہیں .
اب اپ اپنے اردگرد نظر ڈالیے . جتنے نئے فرقے ، نئے مذھب جنم لے رہے ہیں ان کے بانی بھی دین کی اصلاح اور قوم کی فلاح کا دعویٰ کرتے ہیں .لیکن ان کی فتنہ پردازیاں آئے دن جو گل کھلا رہی ہیں ان کی وجہ سے تو قوم کا ذہنی اتحاد بھی پاش پاش ہورہا ہے .
(سوره بقرہ آیت نمبر گیارہ ، ضیا القران ، حضرت پیر محمد کرم شاہ الزہری رحمتہ الله علیہہ )
Comments
Post a Comment