حضور (صلی الله علیہ وسلم ) کے خلاف منافقین کے دل میں عداوت کے کیا جذبات پروان چڑھ رہے تھے ؟

 سوره بقرہ آیت نمبر ٩ ، ١٠ میں ہے کہ :

ترجمہ : " منافقین اسلام اور الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم ) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے . کیونکے یہ وہ نور ہے جس کو ہمیشہ تاباں پھر بڑھادی .الله نے ان کی بیماری اور ان کے لیے درد ناک عذاب  ہے  بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے ہیں "

حضور (صلی الله علیہ وسلم ) کے خلاف منافقین کے دل میں جو جذبات پروان پا رہے تھے اور حسد اور غصے کی جو چنگاریاں چٹخ رہی تھیں .ان کو قران نے مرض سے تعبیر فرمایا ہے جب وہ حضور (صلی الله علیہ وسلم ) اور اسلام کی روز افزوں عزت اور ترقی دیکھتے تو حسد و عناد کے شعلے بھڑک اٹھتے . الله تعالیٰ انہیں تنبیہ فرماتا ہے کہ اگر انہوں نے یہ مرض یونہی بڑھنے دیا اور اسکا علاج نہ کیا تو جس طرح جسمانی بیماریاں جسمانی موت کی وجہ بنتی ہیں ویسے ہی ان کا یہ مرض ان کے قلب و روح کا گلہ گھونٹ کر رکھ دے گا 

Comments

Popular posts from this blog

مکّہ کی نسبت مدینہ میں کیا چیز غور طلب تھی ؟

عملی لحاظ سے یہودیوں کی کیا حالت تھی ؟