منافقین کا رویہ کیا تھا ؟ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو کیا کہتے ؟
ترجمہ : اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے تو کہتے ہیں ھم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ھم تمہارے ساتھ ہیں ھم تو صرف ان کا مذاق اڑا رہے تھے .
منافقین کا رویہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ملتے تو کہتے کہ ھم ایمان لے آئے ہیں . اور کفار کے سرغنوں کے پاس تنہائی میں جا کر انہیں یقین دلاتے کہ ھم اپنے مزہب پر قائم ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہماری بات چیت اور اٹھنا بیٹھنا اس وجہ سے ہرگز نہیں کہ ھم ان کا دین قبول کر چکے ہیں بلکے ھم تو اس طرح ان کو بیوقوف بناتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں .
( ضیا القرآن ، حضرت پیر محمّد کرم شاہ الا زہری ،صفحہ نمبر ٣٦ ، آیت نمبر ١٤ ، جلد اول )
Comments
Post a Comment